ہیڈلائینز نیوز

 

 

01

آئی ایم ایف کے لیے یو اے ای سے ایک ارب ڈالر کی ضمانت رواں ہفتے ملنے کا امکان۔وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے یو اے ای حکام سے خصوصی درخواست کی۔سعودیہ کے بعد امارات کی تحریری گارنٹی ملتے ہی آئی ایم ایف کی بھی ضمانت مل جائے گی۔دوسری جانب سٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق موجودہ مالی سال میں چھ ماہ دس ارب 21 کروڑ ڈالر کے قرضے واپس کیے گئے۔پاکستان اس وقت سب سے زیادہ چین کا تیس ارب ڈالر کا مقروض ہے۔قرض لے کر قرض واپس اتارنے کی پالیسی نے ملک کو دلدل میں دھنسا دیا۔

02

رواں سال پاکستان میں مہنگائی ہدف سے زیادہ اور شرح نمو کم رہے گی۔آئی ایم ایف کی ورلڈ اکنامک آؤٹ لک رپورٹ جاری۔رواں مالی سال جی ڈی پی گروتھ ریٹ 0.5 فیصد رہنے کی پیشگوئی کی گئی۔بے روزگاری کی شرح 6.2 فیصد سے بڑھ کر 7 فیصد تک پہنچ جائے گی۔رپورٹ کے مطابق آئندہ برس سے پاکستان میں مہنگائی کم اور روزگار بڑھے گا۔

03

سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج۔عدالت سے بل کے سیکشن 4 کو کالعدم قرار دینے کی استدعا۔درخواست گزار کے مطابق سیکشن 4 کے تحت سوموٹو فیصلے کے خلاف اپیل کا حق دیا گیا، جو آرٹیکل 184 اور 185 کے منافی ہے۔یہ حق صرف آئینی ترمیم کرکے ہی دیا جا سکتا ہے۔عدالتی اصلاحات کا بل گزشتہ روز سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی چیلنج کیا جا چکا ہے۔

04

سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد میں مسلسل تاخیر۔تحریک انصاف آج عدالت سے رجوع کرے گی۔حکومت کے خلاف توہین عدالت کارروائی کی درخواست دی جائے گی۔الیکشن کمیشن کے مطابق پنجاب میں انتخابات کے لیے فنڈز اور مطلوبہ سیکیورٹی نہیں ملی۔3 لاکھ سیکیورٹی اہلکاروں کی ضرورت ہے صرف 75 ہزار اہلکار دینے کا کہا گیا ہے۔

05

سردار تنویر الیاس کی نااہلی کے خلاف اپیل آزاد کشمیر کی سپریم کورٹ نے خارج کردی۔پٹیشن نامکمل ہونے کی بنیاد پر مسترد ہوئی دوبارہ دائر کی جاسکتی ہے۔سابق وزیراعظم نہ لکھنے کا اعتراض لگایا گیا۔وزیر اعظم آزاد کشمیر کو ہائیکورٹ نے توہین عدالت پر 2 سال کے لیے نااہل کیا۔خواجہ فاروق آزاد کشمیر کے قائم مقام وزیر اعظم مقرر۔

06

بھارت جی ٹوئنٹی اجلاس بلا رہا ہے اور ہم یہاں تماشا لگا رہے ہیں۔سردار تنویر الیاس خان کا نااہلی کے بعد خطاب بولے مجھے کہا گیا تحریک انصاف کا جھنڈا نہ اٹھاؤ مگر ایسا ہو ہی نہیں سکتا۔سیاسی فیصلے ہم نے کرنے ہین کوئی ہمیں ڈکٹیٹ نہ کرے۔ایسی وزارت عظمی کو جوتے کی نوک پر رکھتا ہوں جس میں عزت پر سمجھوتہ ہو۔

07

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی اہم ملاقات۔ملاقات سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کے چیمبر میں ہوئی۔خوشگوار ماحول میں ہونے والی ملاقات 40 منٹ تک جاری رہی۔ذرائع کے مطابق جسٹس فائز عیسی کا وضاحتی بیان چیف جسٹس کی مشاورت سے جاری ہوا۔چیف جسٹس اور جسٹس فائز کی تعطیل کے دوران بھی طویل ملاقات ہوئی تھی۔


0/Post a Comment/Comments

before post content

after post