کون ہو گا قومی اسمبلی کا اگلا سپیکر؟ انتخاب کا عمل مکمل، ووٹوں کی گنتی شروع


 اسلام آباد:  قومی اسمبلی کے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے انتخاب کے لیے اجلاس شروع ہو گیا، سپیکر راجہ پرویز اشرف کی زیر صدارت اجلاس جاری ہے۔

سپیکر راجہ پرویز اشرف کا بطور 22 ویں سپیکر آج عہدے کا آخری دن ہے۔

واضح رہے کہ سپیکر کیلئے مسلم لیگ (ن) کے سردار ایاز صادق اور سنی اتحاد کونسل کے عامر ڈوگر کے درمیان مقابلہ ہے جبکہ ڈپٹی سپیکر کیلئے پیپلز پارٹی کے غلام مصطفیٰ شاہ اور جنید اکبر مدمقابل ہیں۔

سپیکر ڈائس کے دائیں اور بائیں جانب دو پولنگ بوتھ قائم کیے گئے ہیں، پولنگ بوتھ میں خصوصی طور پر لائٹ کا انتظام کیا گیا۔

سپیکر نے عمر ایوب کو پوائنٹ آف آرڈر پر بولنے کا موقع دیا جبکہ سنی اتحاد کونسل اور آزاد ممبران نے احتجاج کرتے ہوئے سپیکر ڈائس کا گھیراؤ کر لیا۔

سپیکر راجہ پرویز اشرف نے نئے سپیکر قومی اسمبلی کے انتخاب کی کارروائی شروع کروائی، راجہ پرویز اشرف نے سیکرٹری قومی اسمبلی کو اردو آرڈر کے مطابق نام پکارنے اور ووٹنگ کا کہا۔

خالی بیلٹ باکس ایوان کو دکھا کر سیل کر دیا گیا، قومی اسمبلی میں سپیکر کا انتخاب خفیہ رائے شماری سے ہوا۔

اردو حروف کے لحاظ سے ارکان کو ووٹنگ کے لیے بلایا گیا، رکن قومی اسمبلی آسیہ اسحاق نے پہلا ووٹ کاسٹ کیا۔

ایم کیو ایم نے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کی ووٹنگ کا بائیکاٹ کر دیا، تاہم ایاز صادق نے انہیں منا لیا۔

مسلم لیگ ن اور اتحادیوں کے قومی اسمبلی کے سپیکر کے امیدوار سردار ایاز صادق ایم کیو ایم رہنماؤں کو منانے کے لیے کمیٹی روم پہنچ گئے۔

ایم کیو ایم رہنماؤں اور ن لیگ کے رہنماؤں کے درمیان کمیٹی روم نمبر 2 میں مذاکرات ہوئے جس کے بعد مسلم لیگ ن اور ایم کیو ایم کے درمیان آئینی ترمیم پر معاہدہ طے پا گیا۔

ن لیگ اور ایم کیو ایم میں آئین کے آرٹیکل 140 میں ترمیم پر اتفاق ہوا ہے، مسلم لیگ ن کی جانب سے احسن اقبال جبکہ ایم کیو ایم کی طرف سے مصطفیٰ کمال نے معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔

معاہدے کے مطابق آرٹیکل 140 کے تحت صوبوں کو دیئے جانے والے فنڈز ضلعی حکومتوں کو دیئے جائیں گے۔

قبل ازیں قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا تو اراکین کے شور شرابے پر سپیکر راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ آج ایوان سپیکر، ڈپٹی سپیکر کا انتخاب کرے گا، ایوان کو چلنے دیں، اگر کوئی اعتراض ہے تو الیکشن کمیشن یا عدالت جائیں۔

اسمبلی اجلاس میں انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے جن ممبران کو نوٹیفائی کیا وہ ایوان کے معزز ارکان ہیں، جس آرٹیکل کے تحت آپ نے حلف اٹھایا، اسی کے تحت دیگر نے بھی حلف اٹھایا۔

پاکستان تحریک انصاف کے نامزد امیدوار برائے وزیراعظم عمر ایوب نے اجلاس میں اظہار خیال کرتے کہا ہے کہ ہم نے بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو ایوان میں واپس لانا ہے۔

انہوں نے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا ہے کہ ایوان میں اجنبی موجود ہیں، عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکا مارنے والوں کو ایوان سے نکالیں۔

قومی اسمبلی اجلاس میں حلف نہ اٹھانے والے ارکان کی آج حلف برداری ہو گی جس کے بعد سپیکر کا انتخاب ہو گا، وزیر اعظم کا انتخاب 3 مارچ اتوار ہو گا، وزیر اعظم کے انتخاب کیلئے کاغذات نامزدگی کل تک جمع کروائے جائیں گے۔ 

عمرایوب نے کہا ہے کہ عالیہ حمزہ سمیت دیگر ارکان منتخب ہوئیں وہ یہاں موجود ہی نہیں، نامکمل ایوان میں سپیکر، ڈپٹی سپیکر اور وزیراعظم کا انتخاب کیسے ہو گا؟، ہم انصاف چاہتے ہیں، آئین و قانون کی بالادستی چاہتے ہیں۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف بھی قومی اسمبلی پہنچ گئے، ان کے ہمراہ سینیٹر اسحاق ڈار و دیگر اراکین بھی موجود تھے، اس موقع پر ایوان میں شدید نعرے بازی بھی کی گئی۔

مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی رانا تنویر نے اظہار خیال شروع کرنا شروع کیا تو سنی اتحاد کونسل کے اراکین نے شور شرابہ شروع کر دیا، جس پر اسپیکر نے کہا کہ جب آپ لوگ بات کر رہے تھے تو سب نے خاموشی سے سنا، آپ لوگوں کو بھی دوسروں کو خاموشی سے سننا چاہیے۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے رانا تنویر نے کہا کہ یہ حقیقت پر مبنی بات سننا ہی نہیں چاہتے، ہماری بات بھی حوصلے سے سنی جائے۔

انہوں نے پی ٹی آئی کے سنی اتحاد کونسل میں شامل ہونے والے اراکین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے بڑے حوصلے سے آپ کی بات سنی، 2018 تاریخ کا بدترین الیکشن تھا۔

0/Post a Comment/Comments

before post content

after post