بچپن میں کئی برسوں تک جنسی ہراسانی کا نشانہ بنتا رہا لیکن کسی سے کہنے کی ہمت نہیں تھی: عدیل ہاشمی


 


Unmute
Loaded: 0%
Progress: 0%
Remaining Time-2:35


پاکستان شوبز انڈسٹری کے معروف کامیڈین اور پروڈیوسر عدیل ہاشمی نے بچپن میں جنسی ہراسانی کا شکار ہونے کا انکشاف کیا ہے۔

گزشتہ دنوں اداکار عدیل ہاشمی نے صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی حاصل کرنے والی بیوٹیشن اور سماجی کارکن مسرت مصباح کے پوڈ کاسٹ میں شرکت کی اور اپنے بچپن کی درد ناک یادوں کو تازہ کیا۔

انہوں نے دوران گفتگو بتایا کہ میری زندگی میں کئی دلخراش واقعات ایسے ہیں جس کی وجہ سے میں کبھی نہیں چاہتا تھا کہ میرا بچپن لوٹ کر واپس آئے۔

انہوں نے بتایا کہ یہ 80 کی دہائی کی بات ہوگی جب میں 7ویں جماعت میں پڑھتا تھا، اس وقت ہم جماعت کی جانب سے جنسی ہراسانی کا نشانہ بنایا گیا، اس وقت تو علم بھی نہیں تھا کہ جنسی زیادتی کیا ہوتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ان کی جماعت میں بعض لڑکے ایسے بھی تھے جو کئی سال سے فیل ہورہے تھے، وہ مجھے تنگ کرتے تھے، چونکہ میں کم عمر اور کمزور تھا اس لیے ان کا مقابلہ نہیں کرسکتا تھا، نہ ہی ان کا مقابلہ کرنے کی طاقت تھی اور نہ ہی گھر والوں کو بتا سکتا تھا، کیونکہ میں جانتا تھا کہ اگر میں نے یہ بات ٹیچر کو بتائی تو لڑکے مجھے اور تنگ کریں گے، میں اس حوالے سے بات کرنے سے ہچکچاتا تھا۔

عدیل ہاشمی نے بتایا کہ ایک موقع پر ہمت کرکے بڑے بھائی کو بتایا لیکن انہوں نے یہ کہہ کر والد کو بتانے سے منع کردیا کہ میں ان لڑکوں سے خود ہی نمٹوں، لیکن میں بہت کمزور تھا، ان کے سامنے میں کچھ نہیں کرسکتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ یہ صرف ایک دن کی بات نہیں بلکہ یہ سلسلہ سالوں تک چلا آرہا تھا، میں آج شکر ادا کرتا ہوں کہ بچپن کے دن ختم ہوگئے ہیں، میں دوبارہ ان دنوں میں نہیں جانا چاہتا۔

عدیل ہاشمی نے کہا کہ میں اپنے والدین کو یہ کبھی نہیں بتاسکا کیونکہ میں نہیں جانتا تھا کہ وہ کس طرح کا رویہ اختیار کریں گے لیکن اس واقعہ کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ اب میں اپنے بیٹے سے پوچھتا ہوں کہ کہیں اسے کوئی اسکول میں تنگ تو نہیں کرتا۔

0/Post a Comment/Comments

before post content

after post