برطانوی وزیراعظم نے فلسطینیوں کے حق میں بولنے والوں کو شدت پسند قراردیدیا


 لندن :  بھارتی نژاد برطانوی وزیراعظم رشی سونک نے برطانیہ میں فلسطینیوں کےحق میں بولنے والوں کو شدت پسند قرار دے دیا ۔

برطانوی وزیراعظم رشی سونک نے خبردار کیا کہ برطانیہ میں مسلسل احتجاج جمہوریت کےلئےخطرہ ہے۔

ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کچھ روز قبل مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیزبیان دینے اور معافی نہ مانگنے پر برطانوی ممبرپارلیمنٹ لی اینڈرسن کو پارٹی سے معطل کر دیا گیا تھا۔

لی اینڈرسن نے کہا تھا کہ مسلمانوں نے میئر لندن صادق خان کے ذریعے لندن پر قبضہ کر لیا ہے ، بعدازاں صادق خان نے برطانوی وزیراعظم اور ان کی کابینہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ رشی سونک کی خاموشی متنازع بیان کےدفاع کے مترادف ہے۔

لی اینڈرسن کے نفرت انگیز بیان پر رشی سونک نے کسی قسم کا تبصرہ نہیں کیا تاہم گزشتہ روز انہوں نے فلسطینیوں کے حق میں بولنے والوں کے خلاف اور ارکان پارلیمنٹ کے تحفظ سے متعلق گفتگو کی۔

انہوں نے برطانیہ میں احتجاج اور فلسطینیوں کے حق میں مظاہرے کرنے والوں پر الزام عائد کیا کہ ’برطانیہ میں انتہا پسند گروپ ہمیں الگ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، حماس کےحق میں بولنے والوں سے لڑنے کا وقت آگیا ہے، ملک میں کسی تشدد اور دھمکیوں کی اجازت نہیں دی جائےگی۔

برطانوی وزیراعظم کاکہنا تھا  کہ برطانیہ میں فلسطین کے حق میں بولنے والوں کےخلاف کریک ڈاؤن کیا جائےگا اور نفرت پھیلانے والوں کےویزے منسوخ کردیےجائیں گے۔

0/Post a Comment/Comments

before post content

after post