کون بنےگااسپیکرقومی اسمبلی،ایازصادق یا عامر ڈوگر؟ انتخاب کی کارروائی جاری


اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب کے سلسلے میں قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر راجہ پرویز اشرف کی زیرِ صدارت شروع ہو گیا۔

اسپیکر راجہ پرویز اشرف کا بطور بائیسویں اسپیکر آج عہدے کا آخری دن ہے۔

مسلم لیگ ن کے اسپیکر کے لیے امیدوار سردار ایاز صادق اور سنی اتحاد کونسل کے نامزد امیدوار برائے اسپیکر عامر ڈوگر قومی اسمبلی میں موجود ہیں۔

ایم کیو ایم نے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کی ووٹنگ کا بائیکاٹ کر دیا، تاہم ایاز صادق نے انہیں منا لیا۔

مسلم لیگ ن اور اتحادیوں کے قومی اسمبلی کے اسپیکر کے امیدوار سردار ایاز صادق ایم کیوایم رہنماؤں کو منانے کے لیے کمیٹی روم پہنچ گئے۔

ایم کیو ایم رہنماؤں اور ن لیگ کے رہنماؤں کے درمیان کمیٹی روم نمبر 2 میں مذاکرات ہوئے۔

مسلم لیگ ن اور ایم کیوایم کے درمیان آئینی ترمیم پر معاہدہ ہو گیا۔

ن لیگ اور ایم کیو ایم میں آئین کے آرٹیکل 140 میں ترمیم پر اتفاق ہوا ہے۔

مسلم لیگ ن کی جانب سے احسن اقبال جبکہ ایم کیو ایم کی طرف سے مصطفیٰ کمال نے معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔

معاہدے کے مطابق آرٹیکل 140 کے تحت صوبوں کو دیے جانے والے فنڈز ضلعی حکومتوں کو دیے جائیں گے۔

مسلم لیگ ن کے قائد، سابق وزیرِ اعظم میاں نواز شریف کی ایوان میں آمد پر ارکان نے ڈیسک بجا کر اور شیر آیا کے نعرے لگا کر استقبال کیا جبکہ سنی اتحاد کونسل اراکین نے مخالف نعرے لگائے۔

اسپیکر راجہ پرویز اشرف کی زیرِ صدارت نئے اسپیکر قومی اسمبلی کے انتخاب کی کارروائی جاری ہے۔

اسپیکر راجہ پرویز اشرف نے سیکریٹری قومی اسمبلی کو اردو آرڈر کے مطابق نام پکارنے اور ووٹنگ کا کہہ دیا۔

خالی بیلٹ باکس ایوان کو دکھا کر سیل کر دیا گیا۔

قومی اسمبلی میں اسپیکر کا انتخاب خفیہ رائے شماری سے ہو رہا ہے۔

اردو حروف کے لحاظ سے ارکان کو ووٹنگ کے لیے بلایا جا رہا ہے۔

ارکانِ قومی اسمبلی اسپیکر کے انتخاب کے لیے ووٹ ڈال رہے ہیں۔

رکنِ قومی اسمبلی آسیہ اسحاق نے پہلا ووٹ کاسٹ کیا۔

سابق وزیرِ اعظم نواز شریف نے اسپیکر کے لیے اپنا ووٹ کاسٹ کر دیا۔

پی ٹی آئی رہنما بیرسٹر گوہر، ن لیگ کے صدر، سابق وزیرِ اعظم میاں شہباز شریف اور ایم کیو ایم رہنما امین الحق نے بھی اپنا ووٹ کاسٹ کر دیا۔

ن لیگی رہنما خواجہ آصف نے ووٹ کاسٹ کرتے وقت اپوزیشن کو گھڑی دکھائی۔

قومی اسمبلی میں خواجہ آصف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ابھی ووٹ گنے نہیں گئے کہ اسپیکر کو کتنے ووٹ ملیں گے۔

صحافی نے ان سے سوال کیا کہ آپ وزیرِ دفاع بن رہے ہیں یا وزیرِ خارجہ؟

خواجہ آصف نے جواب دیا کہ ابھی تو ایم این اے بن گیا ہوں، یہی اللّٰہ کا فضل ہے۔

صحافی نے سوال کیا کہ مولانا فضل الرحمٰن نہیں مان رہے، کہاں مسئلہ ہے؟

خواجہ آصف نے صحافی کو جواب دیا کہ آپ منا لیں۔

دونوں امیدواروں کی جانب سے پولنگ ایجنٹ ایوان میں موجود ہیں۔

ووٹنگ کے بعد گنتی کا عمل ہو گا اور دونوں امیدواروں کے حاصل ووٹوں کا اعلان ہو گا۔

اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کامیاب نو منتخب اسپیکر سے حلف لیں گے۔

حلف اٹھانے کے بعد نو منتخب اسپیکر قومی اسمبلی پارلیمان کا ایوانِ زیریں سنبھال لیں گے۔

نئے اسپیکر سے حلف لینے کے بعد راجہ پرویز اشرف بطور اسپیکر سبکدوش ہو جائیں گے۔

نو منتخب اسپیکر خفیہ رائے شماری سے ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب کرائیں گے۔

سنی اتحاد کونسل کے رکنِ قومی اسمبلی عمر ایوب کا ایوان میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہنا ہے کہ اس ہاؤس میں گھس بیٹھیے آ کر بیٹھ گئے ہیں، ہماری خواتین کی سیٹس مکمل نہیں، ہماری خواتین ہاؤس میں نہیں تو کیسے اسپیکر کا الیکشن کنڈکٹ کر سکتے ہیں؟

انہوں نے کہا کہ فارم 45 کچھ اور کہہ رہا ہے جبکہ فارم 47 کچھ اور کہہ رہا ہے، اصلی مینڈیٹ کے حق دار بانیٔ پی ٹی آئی ہیں۔

عمر ایوب کا یہ بھی کہنا ہے کہ آپ نے ہمارے سر کے تاج ہمارے ورکرز کو جیل میں رکھا، ہاؤس نامکمل ہے، آپ کیسے اسپیکر کے انتخاب کے پراسس کو مکمل کر سکتے ہیں؟ آپ اس ہاؤس کو کیسے چلا سکتے ہیں؟

اراکینِ قومی اسمبلی سے مخاطب ہوتے ہوئے اسپیکر راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ جن لوگوں کو الیکشن کمیشن نے نوٹیفائی کر دیا وہ ایوان کے معزز ممبران ہیں، آپ کو کوئی مسئلہ ہے تو الیکشن کمیشن یا عدالت جائیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ کوئی ممبر ایوان میں نعرے نہیں لگا سکتا، پلے کارڈز نہیں لہرا سکتا، یہ رول ہے آپ کو یاد دہانی کرانا ضروری تھا۔

اسپیکر قومی اسمبلی کی بات کے جواب میں سنی اتحاد کونسل کے اراکین نے نعرے لگائے۔

جس پر اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ دونوں اطراف میں آئین اور قانون کے ماہر بیٹھے ہیں، اس ایوان کا ایک ڈیکورم ہے، اس کو ملحوظِ خاطر رکھیں۔

سنی اتحاد کونسل کے ارکان نے ایوان میں احتجاج کیا اور نعرے لگائے۔

سنی اتحاد کونسل کے ارکان اپنی نشستوں سے اٹھ کر اسپیکر ڈائس کے سامنے آ گئے۔

مسلم لیگ ن نے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں اسپیکر و ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب کی حکمتِ عملی طے کر لی۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ اس حوالے سے مسلم لیگ ن کی پارلیمانی پارٹی کا ہونے والا اجلاس ختم ہو گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں ن لیگ نے حاضر ارکان کے ووٹ جلد سے جلد پول کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن کی جانب سے اپوزیشن کے احتجاج سے متعلق بھی حکمتِ عملی طے کر لی گئی ہے۔

سنی اتحاد کونسل کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس اپوزیشن لابی میں منعقد ہوا جس میں اراکین نے پارلیمان میں احتجاج کا فیصلہ کر لیا۔

اجلاس میں اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب کی حکمتِ عملی پر بھی مشاورت ہوئی۔

اجلاس اختتام پزیر ہوتے ہی سنی اتحاد کونسل کے اراکین اسمبلی ہال میں آ گئے۔

اجلاس میں شرکت اور اسپیکر وڈپٹی اسپیکر کے انتخاب میں حصہ لینے کے لیے ممبرانِ اسمبلی بڑی تعداد میں پہنچے ہیں۔

مسلم لیگ ن کے رہنما ایاز صادق نے کہا ہے کہ جتنی پارلیمنٹ حکومت کی ہے اتنی ہی اپوزیشن کی ہے۔

اتحادی جماعتوں کے اسپیکر کے لیے ن لیگ کے نامزد امیدوار سردار ایاز صادق نے پارلیمنٹ آمد پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میرے سب دوست اور بھائی ہیں۔

ایاز صادق نے کہا کہ ایک دوسرے کے خلاف الیکشن لڑنا یہ جمہوریت کا حُسن ہے، کوئی دشمنی تو ہے نہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسمبلی کا تقدس برقرار رکھنا ہر ممبر کی ذمے داری ہے، شور شرابا ہوا تو تقاریر نہیں ہو سکیں گی، مسائل پر بات چیت نہیں ہو سکے گی۔

ایاز صادق کا کہنا تھا کہ سیشن چلانا کبھی بھی آسان نہیں ہوتا چاہے کم لوگ ہوں یا لوگ واک آؤٹ بھی کر جائیں، سیشن چلانا بڑی اور بھاری ذمے داری ہے، اس کرسی پر بڑے ضبط سے بیٹھنا پڑتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ ہاؤس نا مکمل ہے تو نامکمل ہاؤس کا کیا تقدس ہو گا؟ لیکن ہم نے الیکشن لڑا ہے تو اپنا آئینی کردار ادا کریں گے۔

عامر ڈوگر کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہم اپنا مطالبہ آج بھی دہرائیں گے، ہمارا مطالبہ ہے کہ ہمارا مینڈیٹ چھینا گیا ہے، اسے واپس کیا جائے۔

سنی اتحاد کونسل کے سردار لطیف کھوسہ، زرتاج گل، بیرسٹر گوہر پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئے۔

اسد قیصر، علیم خان، عطاء تارڑ، شائستہ پرویز، امیر مقام، حنیف عباسی، سردار یوسف، عاطف خان بھی پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئے۔

0/Post a Comment/Comments

before post content

after post