نومنتخب ارکان قومی اسمبلی نے حلف اُٹھا لیا، سُنی اتحاد کونسل کے آزاد ارکان کی شدید نعرے بازی


 نومنتخب ارکان قوم اسمبلی نے اسپیکر راجہ پرویز اشرف کی زیر صدارت افتتاحی اجلاس میں حلف اٹھا لیا۔ اس موقع پر احتجاج کا اعلان کرنے والی سنی اتحاد کونسل کے آزاد اراکین ایوان میں شور شرابا کرتے رہے۔

اجلاس کا آغاز تلاوت کلام پاک، نعت اور قومی ترانے سے ہوا۔ عام انتخابات میں کامیاب ہونے والے ارکان کی حلف برداری کے بعد پاکستان کی 16ویں قومی اسمبلی وجود میں آگئی۔

اسپیکر کی جانب سے اجلاس کے آغاز کے ساتھ ہی سنی اتحاد کونسل کے ارکان نے شدید نعرے بازی شروع کردی۔ استحکام پاکستان پارٹی کے علیم خان کو دستخظ کرنے بلایا گیا تواحتجاجی ارکان نے ’لوٹا لوٹا‘ کے نعرے لگائے۔

مسلم لیگ (ن) اور اتحادیوں کے نامزد وزیراعظم شہباز، مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ایوان میں موجود تھے۔ نوازشریف نے آصف زرداری سے ان کی نشست پرجاکرہاتھ ملایا۔

سربراہ جمیعت علمائےاسلام فضل الرحمان بھی ایوان میں موجود ہیں جبکہ سنی اتحاد کونسل کے عمر ایوب ،بیرسٹرگوہر،علی محمد خان نے بھی حلف اٹھایا۔

گزشتہ روز صدرمملکت عارف علوی نے مخصوص نشستوں کے حل کی توقع کے ساتھ تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے قومی اسمبلی کا اجلاس آج طلب کیا تھا ۔‏صدر نے نگران وزیراعظم کے لہجے اور الزامات پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 41 کےتحت صدرریاست کے سربراہ ہیں، بحیثیت صدر مملکت نگران وزیراعظم کے جواب پر تحفظات ہیں۔

اس سے قبل نگران وفاقی وزیربرائے پارلیمانی اُمورمرتضیٰ سولنگی نے وفاقی وزارتِ قانون کے مشورے پر افتتاحی اجلاس بلانے کی سمری پردستخط کیے تھے۔

اسپیکر راجہ پرویزاشرف کی جانب سےحلف لیے جانے کے بعد اراکین نے باری باری اسپیکر کے پاس جاکر ”رول آف سائن“ پر دستخط کیے۔

موجودہ قومی اسمبلی 336ارکان پرمشتمل ہے جن میں سے 267 جنرل نشستوں پر جبکہ دیگر مخصوص نشستوں پر منتخب ہوئے ہیں۔

اسپیکراورڈپٹی اسپیکر کے انتخاب کا شیڈول

ارکان کی حلق بردارئ کے بعد راجہ پرویزاشرف اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب کے شیڈول کا اعلان آج ہی کریں گے۔ قومی اسمبلی میں پہلے مرحلے کی تکمیل کے بعد دوسرے مرحلے کا آغاز ہوگا۔

اسپیکر،ڈپٹی اسپیکرکیلئے کاغذات نامزدگی جمع کروانےکاوقت دوپہر 12 بجے تک تھا تاہم ذراع کے مطابق اس وقت تک کسی نے کاغذات نامزدگی جمع نہیں کروائے۔ کچھ دیر بعد سردارایازصادق نے اسپیکر اور پی پی پی کےغلام مصطفی نےڈپٹی اسپیکرکے لیے کاغذات جمع کرائے۔

سیکرٹری قومی اسمبلی نےایوان کے اندر ہی کاغذات نامزدگی وصول کیے۔ذرائع کے مطابق اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے انتخابات یکم مارچ کو ہوں گے، خفیہ رائے شماری کے ذریعے ایوان کے نئے اسپیکر کا انتخاب ہوگا، منتخب اسپیکر اپنے عہدے حلف اٹھائیں گے۔

وزیراعظم کا انتخاب

تیسرے مرحلے میں وزیراعظم کے لیے کاغذات نامزدگی 2 مارچ کو جمع ہوں گے جبکہ وزیراعظم کا انتخاب 3 مارچ کو کیا جائے گا۔

مسلم لیگ ن کے صدر شہبازشریف کو دوسری بار وزیراعظم بننے کے لیے 169ووٹ درکار ہیں، مسلم لیگ ن اور اتحادیوں کو 210 سے زائد ارکان کی حمایت حاصل ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حکمران اتحاد نے شہبازشریف کو پہلے ہی وزیراعظم کے لیے نامزد کیا ہے، حکمران اتحاد نے اسپیکر کے لیے ایازصادق کو نامزد کیا ہے، ڈپٹی اسپیکر کے لیے غلام مصطفی شاہ کو نامزد کیا گیا ہے۔

سیکیورٹی کے سخت انتظامات

پارلیمنٹ ہاؤس جانے والے راستوں پر سیکیورٹی انتہائی سخت کی گئی، ریڈ زون میں داخلے کے لیے سرینا چوک، نادرا چوک اور ڈی چوک والے راستے بند ہیں جبکہ ریڈزون میں داخلے کے لیے مارگلہ روڈ کا راستہ کھلا رکھا گیا ہے۔

ریڈزون جانے والے راستوں پر پولیس اور ایف سی کی بھاری نفری تعینات ہے، گاڑیوں کی مکمل چیکنگ کے بعد ریڈزون میں داخلے کی اجازت دی جا رہی ہے۔

مہمانوں کیلئے اپروزیٹر گیلری کے کارڈ منسوخ

افتتاحی اجلاس کے دوران قومی اسمبلی احاطے کے دروازے پر سارجنٹ، ایف سی، رینجرز اور اسپیشل برانچ کے اہلکارتعینات ہیں، اجلاس کے دوران غیر متعلقہ افراد کے داخلے پر سخت پابندی عائد ہے جبکہ اجلاس میں مہمانوں کے لیے جاری کردہ اپروزیٹر گیلری کے کارڈ منسوخ کردیے گئے۔

قومی اسمبلی کے افتتاحی اجلاس کے مہمانوں کے کارڈ سیکیورٹی وجوہات کے پیش نظر منسوخ کیے گئے، نومنتخب ممبران کو قومی اسمبلی ہال میں داخلے کے لیے قومی اسمبلی کا کارڈ لازمی قرار دیا گیا۔

قومی اسمبلی کے افتتاحی اجلاس میں سفارتکاروں کو بھی مدعوں کیا گیا ہے۔

وفاقی دارالحکومت میں دفعہ 144 نافذ العمل

ادھر اسلام آباد پولیس نے کہا ہے کہ سیکیورٹی کے پیش نظر وفاقی دارالحکومت میں دفعہ 144 نافذ العمل ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں پولیس کا کہنا تھا کہ ہائی سکیورٹی زون میں سکیورٹی الرٹ کر دی گئی ہے، پارلیمنٹ ہاؤس کی جانب جانے کی صرف ان افراد کو اجازت ہوگی جن کے پاس دعوت نامے ہوں گے۔

0/Post a Comment/Comments

before post content

after post