عام انتخابات: ریٹرنگ افسر کی معطلی کا حکم امتناع کالعدم قرار


 اسلام آباد:  سپریم کورٹ نے کوہاٹ کے ریٹرنگ افسر (آر او) کی معطلی کا پشاور ہائیکورٹ کا حکم امتناع کالعدم قرار دے دیا۔

دوران سماعت وکیل الیکشن کمیشن نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سنگل بنچ نے27 دسمبر کو الیکشن کمیشن کو نوٹس کیے بغیر آر او کو معطل کیا، کوہاٹ کے ریٹرننگ افسر نے طبی وجوہات پر خود رخصت مانگی، پشاور ہائیکورٹ نے اپنے حکم میں نئے آر او کے خلاف کچھ تحریر نہیں کیا۔

چیف جسٹس نے شکایت گزار سے سوال کیا کہ آپ اپنی مرضی کا ریٹرننگ افسر لگوانا چاہتے ہیں؟ لگتا ہے کچھ ہتھکنڈے استعمال ہو رہے ہیں تاکہ انتخابات نہ ہوں، ایک ریٹرننگ افسر بیمار ہوا دوسرا لگا دیا گیا، پشاور ہائیکورٹ نے ٹھک کر کے تقرری کینسل کردی، ہم آپ کو جرمانہ کیوں نہ کریں کہ نوٹس کیے بغیر ہی تقرری کینسل کر دی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ پشاور ہائیکورٹ کے جج نے نوٹس جاری کرنا بھی مناسب نہ سمجھا، یہ ہائیکورٹس سے کس قسم کے آرڈر جاری ہو رہے ہیں؟ آر او کوئی بھی ہو کیا فرق پڑے گا، بلاوجہ کی درخواستیں کیوں آرہی ہیں؟

عدالت نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے غیرقانونی یا غیرآئینی اقدام نہیں کیا، الیکشن کمیشن فوری طور پر سکروٹنی کا عمل شروع کرے۔

بعدازاں عدالت نے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف الیکشن کمیشن کی اپیل منظور کرتے ہوئے ریٹرنگ افسر (آر او) کی معطلی کا حکم امتناع کالعدم قرار دے دیا۔

0/Post a Comment/Comments