سڈنی ٹیسٹ میں بھی شکست دے کر آسٹریلیا نے پاکستان کو وائٹ واش کر دیا


 آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں ہونے والے ٹیسٹ سیریز کے آخری میچ کی دوسری اننگز میں پاکستان کے تمام کھلاڑی صرف 115 رنز ہی بنا سکے، میزبان ٹیم کو جیتنے کیلئے 130 رنز کا آسان ہدف دیا گیا جسے انہوں نے 2 وکٹوں کے نقصان پر ہی پورا کر لیا۔

یاد رہے کہ دسمبر 2022ء میں انگلینڈ نے بھی پاکستان کو ہوم گراؤنڈ پر وائٹ واش سے دوچار کیا تھا، ہوم گراؤنڈ پر پہلی بار پاکستان کو مسلسل 4 ٹیسٹ میچز میں شکست ہوئی، اس قبل 1960ء میں پاکستان ٹیم ہوم گراؤنڈ پر ٹیسٹ سیریز دو صفر سے ہاری تھی۔

پاکستان کے دوسری اننگز میں 115 رنز پر تمام کھلاڑی آؤٹ ہونے کے بعد آسٹریلیا کو جیت کیلئے 130 رنز کا ہدف ملا جس کے جواب میں اوپنر عثمان خواجہ اور ڈیوڈ وارنر نے بیٹنگ کا آغاز کیا، کینگروز کی شروعات اچھی نہ ہوئی اور صرف 6 گیندوں کا سامنا کرنے والے عثمان خواجہ صفر پر ساجد خان کے ہاتھوں ایل بی ڈبلیو آؤٹ ہو کر واپس لوٹ گئے۔

ان کے بعد آنے والے مارنوس لبوشین اور ڈیوڈ وارنر نے شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے 119 رنز کی شراکت قائم کی، وارنر بھی عثمان خواجہ کی طرح ساجد خان کی گیند پر ایل بی ڈبلیو آؤٹ ہوئے، لبوشین 62 رنز اور سٹیو سمتھ 4 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے، پاکستان کی جانب سے ساجد خان نے دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں ہونے والے ٹیسٹ سیریز کے آخری میچ کی دوسری اننگز میں شاہینوں کی بیٹنگ ریت کی دیوار ثابت ہوئی، بابر اعظم اور صائم ایوب کے علاوہ کوئی بھی کھلاڑی کینگروز کی تیز باؤلنگ کے سامنے کھڑا نہ رہ سکا اور ایک کے بعد دوسرے کھلاڑی نے پویلین واپس لوٹنے میں ہی اپنی بھلائی سمجھی، تیسرے روز کے اختتام تک پاکستان نے 7 وکٹوں کے نقصان پر صرف 67 رنز ہی بنائے۔

دوسری اننگز میں پاکستان کی جانب سے اننگز کا آغاز عبد اللہ شفیق اور صائم ایوب نے کیا لیکن عبد اللہ شفیق ایک بار پھر پہلے ہی اوور میں صفر پر بولڈ ہو گئے جبکہ جوش ہیزل ووڈ نے کپتان شان مسعود کو اننگز کے دوسرے اوور میں پہلی ہی گیند پر پویلین بھیج دیا۔

بعدازاں صائم ایوب اور بابر اعظم نے پارٹنرشپ قائم کر کے ٹیم کا سکور 58 تک پہنچایا جس کے بعد صائم ایوب 33 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے، کچھ ہی دیر بعد پاکستان کی چوتھی وکٹ 60 رنز پر گر گئی جب بابر اعظم 23 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔

پاکستان کی پانچویں، چھٹی اور ساتویں وکٹ 67 رنز پر ایک ہی اوور میں گری، سعود شکیل 2 جبکہ ساجد خان اور آغا سلمان کو صفر پر جوش ہیزل ووڈ نے ایک ہی اوور میں پویلین کی راہ دکھا دی۔

دوسری اننگز میں شاہینوں کی 67 رنز پر 7 وکٹیں گرنے کے بعد میچ کے چوتھے روز محمد رضوان اور عامر جمال نے محتاط انداز میں بیٹنگ کا آغاز کیا اور ٹیم کا مجموعی سکور 109 تک پہنچایا، اس کے بعد محمد رضوان بھی نیتھن لائن کی گیند پر کیچ آؤٹ ہو گئے، انہوں نے 28 رنز کی اننگز کھیلی، اگلے ہی اوور میں 18 رنز بنانے والے عامر جمال بھی پیٹ کمنز کا شکار بن گئے جبکہ حسن علی نے صرف 5 رنز بنائے اور نیتھن لائن کے ہاتھوں کلین بولڈ ہوگئے۔

آسٹریلیا کی جانب سے جوش ہیزل ووڈ نے 4، نیتھن لائن نے 3، مچل سٹارک، پیٹ کمنز اور ٹریوس ہیڈ نے ایک ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔

آخری ٹیسٹ میچ کے دوسرے دن پاکستان نے پہلی کامیابی آسٹریلوی اوپنر ڈیوڈ وارنر کی وکٹ کی صورت میں حاصل کی جو 34 رنز بنا کر آغا سلمان کا شکار بنے جبکہ عثمان خواجہ کو عامر جمال نے 47 رنز پر آؤٹ کیا۔

میچ کے تیسرے روز مارنوس لبوشین کے ساتھ 79 رنز کی پارٹنر شپ قائم کرنے والے سٹیو سمتھ 187 رنز کے مجموعی سکور پر میر حمزہ کی گیند پر بابر اعظم کو کیچ دے بیٹھے، انہوں نے 38 رنز کی اننگز کھیلی۔

اگلے ہی اوور کی دوسری گیند پر آغا سلمان نے 60 رنز بنانے والے مارنوس لبوشین کو کلین بولڈ کر دیا۔

تیسرے روز کھانے کے وقفے کے بعد مچل مارش اور ٹریوس ہیڈ نے دوبارہ بیٹنگ شروع کی تو ٹریوس ہیڈ کو شاہینوں نے سنبھلنے نہ دیا اور وہ صرف 10 رنز بنانے کے بعد عامر جمال کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہو کر پویلین لوٹ گئے۔

289 کے مجموعے پر ایلکس کیری بھی 38 رنز بنا کر آف سپنر ساجد خان کی گیند پر کلین بولڈ ہو گئے۔

مچل مارش 54 رنز اور نیتھن لائن 5 رنز پر عامر جمال کے ہاتھوں آؤٹ ہوئے، جوش ہیزل ووڈ کو بھی عامر جمال نے صفر پر آؤٹ کیا جبکہ آسٹریلوی کپتان پیٹ کمنز کو بھی عامر جمال نے پویلین کی راہ دکھائی۔

پاکستان کی جانب سے عامر جمال نے شاندار باؤلنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 6 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا جبکہ سلمان علی آغا کے حصے میں 2 وکٹیں آئیں، ایک ایک کھلاڑی کو ساجد خان اور میر حمزہ نے آؤٹ کیا۔

آسٹریلیا کی جانب سے مچل مارش 54 اور مارنس لبوشین 60 رنز بنا کر نمایاں رہے جبکہ عثمان خواجہ نے 47 رنز کی اننگز کھیلی۔

میچ کے پہلے روز پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا جو اچھا ثابت نہ ہوا، اوپنرز عبداللہ شفیق اور ڈیبیو کرنے والے صائم ایوب نے بیٹنگ کا انتہائی مایوس کن آغاز کیا اور بغیر کھاتہ کھولے ہی پویلین لوٹ گئے، دونوں نے 2، 2 گیندوں کا ہی سامنا کیا۔

ان کے بعد بابر اعظم نے کینگروز کے سامنے تھوڑی مزاحمت کی لیکن وہ بھی 26 رنز کے مہمان ثابت ہوئے، انہیں ایک مرتبہ پھر پیٹ کمنز نے پویلین کی راہ دکھائی، سعود شکیل بھی اچھی بیٹنگ نہ کر سکے اور صرف 5 رنز پر پیٹ کمنز کی گیند پر ایلکس کیری کو کیچ دے بیٹھے۔

بعدازاں کپتان شان مسعود نے ذمہ داری سے بیٹنگ کی اور ٹیم کا مجموعی سکور 96 پر پہنچایا جس کے بعد وہ بھی مچل مارش کی گیند پر کیچ آؤٹ ہو کر واپس لوٹ گئے۔

آدھی ٹیم آؤٹ ہونے کے بعد وکٹ کیپر بلے باز محمد رضوان اور سلمان علی آغا نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کیا اور ٹیم کا مجموعی سکور 190 تک پہنچایا جس میں محمد رضوان کے 88 رنز شامل ہیں مگر قسمت مہربان نہ ہوئی اور رضوان اپنی سنچری سے محض 12 رنز قبل پیٹ کمنز کی گیند پر ایلکس کیری کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہو گئے۔

ساجد خان 15 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے جبکہ سلمان علی آغا نے اپنے ٹیسٹ کیریئر کی چھٹی نصف سنچری مکمل کی اور وہ 53 رنز بنا کر مچل سٹارک کی گیند پر کیچ آؤٹ ہوئے جبکہ حسن علی کھاتہ بھی نہ کھول سکے۔

نویں وکٹیں گرنے کے بعد عامر جمال نے میر حمزہ کے ساتھ مل کر ٹیم کا سکور آگے بڑھایا اور اپنے ٹیسٹ کیریئر کی پہلی نصف سنچری مکمل کی جس میں 6 چوکے اور 2 چھکے بھی شامل ہیں۔

عامر جمال نے 4 چھکوں اور 8 چوکوں کی مدد سے 82 رنز کی شاندار اننگز کھیلی اور قسمت نے ان کا ساتھ نہ دیا جس کے باعث وہ اپنے کیریئر کی پہلی سنچری مکمل نہ کر سکے، وہ نیتھن لائن کی گیند پر چھکا لگانے کی کوشش میں مچل سٹارک کو باؤنڈری لائن پر کیچ دے بیٹھے۔

سڈنی ٹیسٹ میچ کے پہلے روز پاکستان کی پوری ٹیم 313 رنز بنا کر آؤٹ ہوئی، آسٹریلیا کی جانب سے پیٹ کمنز نے 5 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا جبکہ مچل سٹارک کے حصے میں 2 وکٹیں آئیں، ایک ایک کھلاڑی کو جوش ہیزل ووڈ، مچل مارش اور نیتھن لائن نے آؤٹ کیا۔

میچ کے پہلے روز آسٹریلیا کے اوپنرز کو کھیلنے کیلئے صرف ایک اوور ملا جس میں انہوں نے ایک چوکے اور ڈبل کی مدد سے بغیر کسی نقصان کے 6 رنز بنائے تھے۔

قومی ٹیم میں سڈنی ٹیسٹ میچ کیلئے دو تبدیلیاں کی گئی ہیں، امام الحق اور شاہین آفریدی کو آرام دے کر ان کی جگہ صائم ایوب اور ساجد خان کو ٹیم میں شامل کیا گیا ہے، کپتان شان مسعود، عبداللہ شفیق، بابر اعظم، سعود شکیل، سلمان علی آغا میر حمزہ، حسن علی اور عامر جمال بھی سکواڈ کا حصہ ہیں۔

پاکستان کیخلاف سڈنی ٹیسٹ میچ میں آسٹریلیا کی ٹیم میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی، پیٹ کمنز کی قیادت میں نیتھن لائن، جوش ہیزل ووڈ، ڈیوڈ وارنر، عثمان خواجہ، مارنوس لبوشین، سٹیو سمتھ، مچل مارش، ٹریوس ہیڈ، ایلکس کیری اور مچل سٹارک پر مشتمل ٹیم میدان میں اتری ہے۔

پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان باہمی ٹیسٹ کرکٹ سیریز کے ریکارڈز کو دیکھا جائے تو شاہینوں کا پلڑا انتہائی کمزور نظر آتا ہے، قومی ٹیم نے آسٹریلیا میں کوئی ٹیسٹ سیریز نہیں جیتی تاہم پاکستان نے آسٹریلیا میں آخری ٹیسٹ میچ 1995ء میں مشتاق احمد کی تباہ کن باؤلنگ کے باعث جیتا تھا، مشتاق احمد نے میچ میں 9 وکٹیں حاصل کیں اور میچ کے بہترین کھلاڑی قرار پائے تھے۔

پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان 26 ٹیسٹ سیریز کھیلی گئی ہیں جن میں سے کینگروز نے 14 میں کامیابی حاصل کی جبکہ 7 میں پاکستان کو فتح نصیب ہوئی ہے، پانچ سیریز برابر رہیں، پاکستان نے آسٹریلیا میں 13 ٹیسٹ سیریز کھیلیں اور کسی ایک میں بھی کامیابی حاصل نہیں کی جبکہ قومی ٹیم تین سیریز برابر کر سکی، آسٹریلیا نے 10 سیریز جیتی ہیں۔

پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان مجموعی طور پر 71 ٹیسٹ میچز کھیلے گئے جن میں سے کینگروز نے 36 اور پاکستانی ٹیم نے صرف 15 میچز میں کامیابی حاصل کی جبکہ 20 میچز بغیر نتیجہ رہے، پاکستان نے آسٹریلیا کی سرزمین پر 39 میچز کھیلے اور صرف 4 میں کامیابی حاصل کی، قومی ٹیم نے آسٹریلیا میں آخری ٹیسٹ سیریز 2019ء میں کھیلی جس میں دو صفر سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

0/Post a Comment/Comments