جبری گمشدگی،لاپتہ افراد کیس: ہم پارلیمنٹ کو قانون سازی کا نہیں کہہ سکتے:چیف جسٹس




 اسلام آباد:  سپریم کورٹ میں جبری گمشدگیوں اور لاپتہ افراد کیس کی براہ راست سماعت جاری ہے۔

سماعت کے آغاز پر لاپتہ افراد کیس کے درخواست گزار خوشدل خان ملک روسٹرم پر آگئے، انہوں نے استدعا کی کہ عدالت حکومت کو جبری گمشدہ افراد سے متعلق قانون سازی کا حکم دے۔

جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیئے کہ جبری گمشدگیوں سے متعلق کمیشن بنا تو ہوا ہے۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کون سا کمیشن بنا ہے؟ جس پر خوشدل خان ملک نے کہا کہ جسٹس (ر) جاوید اقبال کی سربراہی میں لاپتہ افراد کمیشن بنایا گیا لیکن اس نے اب تک کچھ نہیں کیا، عدالت حکومت کو نوٹس کر کے پوچھے کہ 50 سال سے لاپتہ افراد کے بارے قانون سازی کیوں نہیں کی؟

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ عدالت کیسے پارلیمنٹ کو حکم دے سکتی ہے کہ فلاں قانون سازی کرو؟ آئین کی کون سی شق عدالت کو اجازت دیتی ہے کہ پارلیمنٹ کو قانون سازی کا حکم دے؟ ہر ادارے کو اپنی حدود میں رہنا چاہیے۔

چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیئے کہ ہم پارلیمان کو یہ حکم نہیں کر سکتے کہ قانون سازی کریں، کل کو آپ ہی ہم پر تنقید کریں گے کہ پارلیمان کو حکم دیا۔

قاضی فائز عیسیٰ نے مزید کہا کہ آپ کو میرے چیمبر میں آنے کی ضرورت نہیں، مجھے درخواست گزار کی جانب سے کوئی پٹیشن نہیں ملی، سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر 2023 قانون بن گیا ہے، آپ ذرا سی زحمت کریں اس قانون کو پڑھ لیں، اگر آپ کو کوئی ذاتی مسئلہ ہے تو اس کا طریقہ کار الگ ہے۔

جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیئے کہ عدالت قانون سازی کا اختیار نہیں رکھتی، صرف قانون کالعدم قرار دے سکتی ہے۔

دریں اثنا اعتزاز احسن کے وکیل شعیب شاہین روسٹرم پر آگئے۔

چیف جسٹس فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ آپ تو اعتزاز احسن کے وکیل نہیں ہیں جس پر شعیب شاہین نے کہا کہ لطیف کھوسہ کا بیٹا گرفتار ہے تو مجھے وکالت نامہ دیا گیا ہے، ہماری درخواست پر اعتراضات عائد کئے گئے۔

چیف جسٹس فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ اعتراضات کو خارج کر کے درخواستیں سن رہے ہیں کیونکہ یہ عوامی مفاد کا معاملہ ہے، میری غیر موجودگی میں کچھ ہوا اور میں نے واپس آتے ہی یہ درخواستیں سماعت کیلئے مقرر کی ہیں۔

یاد رہے کہ سینئر وکیل اعتزاز احسن سمیت متعدد درخواست گزاروں نے جبری گمشدگیوں کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواستیں دائر کی تھیں۔

0/Post a Comment/Comments