سی پیک منصوبوں سے گوادر میں ترقی کے نئے دور کا آغاز ہوگا، نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کا تقریب سے خطاب


 


’’چین  پاکستان دوستی ہسپتال‘‘ اور سمندری پانی کو قابل استعمال بنانے کے پلانٹ سمیت سی پیک منصوبوں سے گوادر میں ترقی کے نئے دور کا آغاز ہوگا، نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کا   تقریب سے خطاب


گوادر:نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے پاک چین دوستی کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ’’ چین  پاکستان دوستی ہسپتال‘‘ اور سمندری پانی کو قابل استعمال بنانے کے پلانٹ سمیت سی پیک منصوبوں سے گوادر میں ترقی کے نئے دور کا آغاز ہوگا، گوادر میں کئی سالوں سے پینے کے پانی کا گھمبیر مسئلہ اس منصوبے سے حل ہو جائے گا، مستقبل میں چین میں کھربوں ڈالر کی تجارت سے مستفید ہونے کیلئے ہمیں بالخصوص نوجوانوں کو تیاری کرنا ہوگی اور یہ ان کیلئے سنہری موقع ہے کہ وہ اپنے ملک، صوبے اور خاندانوں  کیلئے اس سے فائدہ اٹھائیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو یہاں’’ چین پاکستان دوستی ہسپتال‘‘ اور سمندری پانی کو قابل استعمال بنانے کیلئے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان سے دلی لگائو ہے، بی آر آئی فورم  کے موقع پر چینی حکام کی اردو سے موثر  شناسائی پر خوشی ہوئی، زبان اور روابط سے دو ممالک کے درمیان قربتیں مضبوط ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین سدا بہاردوست  اور آئرن فرینڈز ہیں، ان کے درمیان پہاڑوں سے بلند اور شہد سے میٹھی دوستی ہے، پاکستان اور چین کے درمیان دوطرفہ مضبوط اور دوستانہ تعلقات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین نے اپنے عوام  کی بڑی تعداد کو غربت سے نکال کر بے مثال کارنامہ سرانجام دیا۔ صدر شی جن پنگ اپنی قوم کو جس بردباری سے نئے مرحلے کی جانب لے جا رہے ہیں وہ قابل تعریف اور قابل ستائش ہے۔ ان کا پیغام یہ ہے کہ جب چین ترقی کرتا ہے  تو سب ترقی کرتے ہیں، اس میں پاکستان بالخصوص بلوچستان میں گوادر سب سے پہلے آتا ہے ، گوادر میں پینے کے پانی کا مسئلہ کئی سالوں سے گھمبیر تھا۔ اس منصوبے سے پینے کے پانی کا مسئلہ کافی حد تک حل ہو جائے گا۔ ایئر پورٹ فعال ہونے والا ہے، سی پیک کے ذریعے گوادر کے لوگ ترقی کے نئے دور میں داخل ہوں گے، اس کو طاقت اور دہشتگردی سے نہیں بدلا جاسکتا ، ایسا سمجھنے والے غلطی پر ہیں، قومی بہتری کیلئے درست سمت کا تعین ہونے کے بعد سفر میں ساتھ دیا جاتا ہے، مزاحمت نہیں کی جاتی۔ انہوں نے کہا کہ گوادر اور بلوچستان کے شہریوں کے لئے آبادی کی مناسبت سے مواقع اور وسائل زیادہ ہیں ، آئندہ دس سال میں چین اور اس کے نواح میں کھربوں ڈالر کی تجارت ہو گی۔ اس تجارت میں اپنی شراکت داری ،اس کا حصہ بننے کیلئے اور اس میں شمولیت کیلئے تیاری کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ہر شخص میں مختلف قابلیت اور صلاحیت ہوتی ہے جو ہر فرد کی شناخت اور کردار کا تعین کرتی ہے، اپنی پہچان سے ہی زندگی میں کامیابی ملتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بلوچستان کے عوام بالخصوص نوجوانوں کیلئے سنہری موقع ہے کہ وہ اپنے ملک ، صوبے اور خاندانوں کیلئے تاریخی موقعے سے فائدہ اٹھائیں۔ انہوں نے کہا کہ سولر پینل منصوبہ اور کوئٹہ میں ایمرجنسی سنٹر کے قیام کے اعلان پر چینی سفیر کاشکر گزار ہوں اور انہیں یقین دلاتا ہوں کہ چینی باشندوں کی سکیورٹی ضروریات پوری کرنے کیلئے ہر ممکن اقدامات کئے جائیں گے۔ اس موقع پر نگران وزیراعلیٰ بلوچستان علی مردان ڈومکی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گوادر کے عوام کو پینے کے صاف پانی کا مسئلہ درپیش رہا ہے اس پلانٹ سے شہریوں کو 5  لاکھ گیلن پانی میسر آئے گا۔ سی پیک کے تحت گوادرکی تعمیر وترقی مثالی ہے۔ گوادر میں ہسپتال کا قیام یہاں کے عوام کیلئے تحفہ سے کم نہیں۔ پاکستان میں چین کے سفیر جیانگ ژائی ڈانگ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی اور بلوچستان حکومت کی منصوبے میں مسلسل معاونت پر شکر گزار ہیں۔ واٹر پلانٹ سے گوادر کے عوام مستفید ہوں گے ۔ ہسپتال کے قیام سے عوام کو صحت کی بہترین سہولیات میسر آئیں گی۔ ہمارا مقصد سی پیک منصوبوں کی بروقت تکمیل ہے۔ گوادر پورٹ سی پیک کا کلیدی منصوبہ ہے ، سی پیک سے ملازمتوں کے   2 لاکھ 36 ہزار مواقع پیدا ہوں گے ۔ گوادر سی پورٹ پر 46 کمپنیوں کی رجسٹریشن ہو چکی ہے، ان منصوبوں سے دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو مزید فروغ ملے گا۔ انہوں نے بلوچستان میں سولر پینل منصوبہ اور کوئٹہ میں ایمرجنسی سنٹر کے قیام کا اعلان بھی کیا۔  چیف ایگزیکٹو آفیسر اے آئی ای سی او نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چینی حکومت گوادر کی ترقی کیلئے بھرپور کردار ادا کر رہی ہے۔ گوادر پورٹ خطے کا جدید ترین ایئر پورٹ ہوگا  جس میں جدید سہولیات میسر ہوں گی۔ گوادر میں ووکیشنل ٹریننگ انسٹیٹیوٹ نوجوانوں کی تربیت میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔\

0/Post a Comment/Comments