ہماری دفاعی صلاحیت کی وجہ سے کسی میں جرات نہیں کہ پاکستان کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھے، نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ




مظفر آباد۔15دسمبر  :نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا  ہے کہ ہماری دفاعی صلاحیت کی وجہ سے کسی میں جرات نہیں کہ پاکستان کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھے، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام  کی امنگوں کے مطابق استصواب رائے کے سوا مسئلہ کشمیر کا کوئی حل قبول نہیں،  مودی نے مقبوضہ کشمیر کو دنیا کی سب سے بڑی جیل بنا دیا ، اسرائیل فلسطینیوں کی نسل کشی کر رہا ہے، اصل توجہ اس بات پر مرکوز رہنی چاہئے کہ اسرائیلی بھیڑیے نیتن یاہو کے ہاتھ کیسے روکے جائیں  ، وہاں جنگ بندی ہو اور انسانی کورویڈو کھلے ۔پاکستان میں قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کوواپس نہیں بھجوایا جا رہا ،  اپنے وسائل غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں پر نہیں اپنے شہریوں پر خرچ کرنے ہیں، معیشت بہتر ہو رہی ہے، امید ہے کہ شرح سود میں بھی کمی آئے گی، یونیورسٹیوں  کو درپیش مسائل کے حل کے لئے کوشاں ہیں ،داخلوں کے لئے کوٹے کامسئلہ باہمی مشاورت سے حل کیاجائےگا، وفاقی حکومت آزاد جموں و کشمیر کے طلبا کے مسائل کے حل کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کرے گی ۔   جمعہ کو یہاں آزادجموں و کشمیر کی جامعات  کے طلباوطالبات کے ساتھ گفتگوکرتےہوئے نگران وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی آبادی 24 کروڑ ہے اور 60 سے 65 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ بیرون ملک مقیم کشمیری تحریک آزادی کا اہم حصہ ہیں۔ معاشی مواقع پیداکرنے کے لئے مربوط لائحہ عمل کی ضرورت ہے۔ حصول روز گار کے لئے بیرون ملک  جانے والوں کو منفی انداز میں نہیں لینا چاہیے۔ نوجوانوں کو علم ہونا چاہئے کہ وہ جس شعبے کی تعلیم حاصل کررہے ہیں اس کی عملی میدان میں کتنی اہمیت ہے، معیاری تعلیم پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے، یونیورسٹیوں  کو درپیش مسائل کے حل کے لئے کوشاں ہیں ۔ ایچ ای سی کے ساتھ  میڈیکل اور دیگر شعبوں میں تعلیم  کے فروغ کے لئے  ہماری تفصیلی بات ہوئی ہے، اس کے لئے ایک  مربوط منصوبہ مرتب کیاجارہا ہے۔ امید ہے کہ  اس کے بہتر اثرات مرتب  ہوں گے۔ داخلوں کے لئے کوٹہ  کامسئلہ باہمی مشاورت سے حل کیاجائےگا۔ ایک اور سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ یکساں نصاب تعلیم  سنجیدہ معاملہ ہے  اور یہ  چیلنج بھی  ہے ، اس پر تفصیلی غور وخوض کر کے عملدرآمد ہونا چاہیے، سنجیدہ بحث سے ہی ہم کسی نتیجہ پر پہنچ سکتے ہیں۔ پارلیمنٹ کو اس میں  اپنا بھرپور  کردار ادا کرنا ہو گا۔ ہم  حوصلہ افزائی کریں گے کہ اس پر کوئی نتیجہ خیز بحث کی جائے۔ آگے بڑھنے کے لئے مکالمے کافروغ ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ فزیو تھراپی کونسل اور نرسنگ کونسل کے حوالے سے جو بھی معاملات ہیں آزاد کشمیر کی حکومت سے اس پر بات کریں گے۔ میڈیکل کی تعلیم کے حوالے سے ایک نئی پالیسی  بنائی جارہی ہے، 15 جنوری تک منظوری کے لئے یہ کابینہ میں پیش کی جائے گی جس میں تمام معاملات  کا حل دیاجائےگا۔ انہوں نے کہاکہ میڈیکل کے شعبے کے  مسائل کے حل کے لئے  آزاد کشمیر حکومت سے بھرپور تعاون کریں گے۔ وزیراعظم نے کہاکہ  نریندر مودی  نے  مقبوضہ کشمیر کو دنیاکی سب سے بڑی جیل بنادیا ہے۔ لوگوں کی نقل و حرکت اور ایک دوسرے کے ساتھ ملنے پر پابندی ہے۔  یہ تمام مسائل اس وقت حل ہوں گے جس وقت مسئلہ کشمیر  کاحتمی حل نکلے گا۔  اس حتمی حل  کے بعد  سب کے لئے آسانیاں پیدا ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ کوریڈور ز کی اپنی اہمیت ہے لیکن ا س میں بھارت ایک بڑا  اور ظالم فریق ہے۔ کشمیر کے دونوں حصوں کے درمیان  کوریڈور کے قیام کے لئے  ہم یک طرفہ طورپر کوئی فیصلہ نہیں کر سکتے۔  وزیراعظم نے کہا کہ  مسئلہ کشمیر کاحتمی حل  اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق منصفانہ اور غیر جانبدارانہ استصواب رائے ہے۔کشمیری عوام  ،پاکستان اور بھارت اس مسئلے کے سب سے بڑے فریق ہیں، استصواب رائے کے سوا کوئی حل قابل قبول نہیں ہوگا۔وزیراعظم نے کہاکہ افواہیں دوست نہیں بلکہ دشمن پھیلاتے ہیں،  وہ چاہتے ہیں کہ  ہمارے درمیان غلط فہمیاں پیداہوں ، ہماری یہ ذمہ داری ہے کہ  ہم ان افواہوں کاازالہ کریں اور ان کے نتیجے میں پیداہونے والے منفی جذبات کاازالہ کریں۔  تحریک آزادی کشمیر  میں ہزاروں کشمیریوں  نے اپنا خون بہایا ہے۔ پاکستان  اس مسئلے پر تین جنگیں  لڑ چکا ہے اور آئندہ بھی  ہر قسم کی جنگ لڑنے کے لئے تیار ہے۔ مسئلہ کشمیر کاصرف ایک ہی حل ہے اور وہ ہے استصواب رائے۔  ہم بھارت کے  جس اقدام کے خلاف  بین الاقوامی   سطح پر آواز اٹھارہے ہیں  وہی قدم خودکیوں اٹھائیں گے، کشمیری اپنا فیصلہ اپنی مرضی سے کریں گے، مسئلہ کشمیر پر اپنے موقف سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے اوراسے ہر فورم پر اجاگر  بھی کرتے رہیں گے، پاکستان کشمیریوں کی اخلاقی ،سیاسی و سفارتی حمایت جاری رکھےگا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہائوس جاب کا معاوضہ   پورے ملک میں مساوی ہونا چاہئے۔  وفاقی حکومت اگراس ضمن میں  کوئی کردار ادا کرسکتی ہے تو کرے گی۔ وزیراعظم نے کہاکہ سٹیٹ بینک کو 2019 میں خود مختار بنادیاگیا ہے۔ افراط زر کی شرح کو مد نظررکھتے ہوئے  شرح سود کاتعین کیاجاتا ہے۔  ہم سٹیٹ بینک پر  شرح سو د میں کمی لانے کے لئے  دبائو نہیں ڈال سکتے لیکن جس طرح معیشت بہتری کی طرف جارہی ہے ، امید کرتےہیں کہ مستقبل میں شرح سود میں بھی کمی آئے گی۔ وزیراعظم نے کہاکہ متوسط اور  نیم متوسط طبقہ پاکستان کی بنیاد ہےاور انہی طبقات نے ملک کو آگے لےکر چلنا ہے۔  سکالرشپ کی فراہمی کے حوالے سے امتیازی رویہ  کسی کے ساتھ نہیں ہوناچاہئے۔  لیپ ٹاپ سکیم میں بھی کشمیر کے طلبا و طالبات کو  نظر انداز نہیں کیا جائے گا اور اگر کوئی کوتاہی ہوئی ہے تو اس کا ازالہ کیاجائےگا۔ ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ بھارتی سپریم کورٹ کے  فیصلے سے متعلق  آزاد کشمیر کی قیادت اور حریت رہنمائوں کے ساتھ  طویل مشاورت ہوئی ہے اور  فیصلہ کیا گیا ہے کہ  ہم نے بھر پور توانائی کے ساتھ مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنا ہے۔ کشمیری  قیادت ،بیرون ملک مقیم پاکستانیوں  اور دیگر  طبقات کو کس طرح متحرک کیا جائے گا ،اس کے عملی اثرات  جلد نظر آئیں گے۔  وزیراعظم نے کہا کہ تحقیق و ترقی قوموں کو باعزت مقام دلاتی ہے، میڈیکل کے شعبہ کیلئے خصوصی معاون کا تقرر بھی کیا گیا ہے، وہ بھی آزاد کشمیر کا دورہ کرکے اس حوالے سے معاملات کا جائزہ لیں گے۔ ایک سوال کے جواب   وزیراعظم نے کہا کہ قومیں اپنے جغرافیہ کے ساتھ ساتھ اپنی روح کیلئے لڑتی ہیں، تنازعہ کشمیر صرف پاکستان اور بھارت کے درمیان نہیں کشمیری اس کا ہراول دستہ ہیں، کشمیریوں کی 200 سال کی تاریخ ہے اور یہ شناخت بہت پرانی ہے، اس جنگ میں پاکستان کشمیریوں کے شانہ بشانہ کھڑا ہے،  کشمیریوں کی 99.9 فیصد آبادی بڑی جرات اور حمیت کے ساتھ لڑ رہی ہے۔  وزیراعظم نے کہا کہ میں نے غزہ کو ایسا مقام قرار دیا ہے جہاں بچوں کے ساتھ ہولوکاسٹ ہو رہا ہے، اسرائیلی جنگی جرائم کا تذکرہ ہم نے ہر جگہ کیا ہے اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے، اسرائیل جو مظالم ڈھا رہا ہے انسانی تاریخ میں اس کی مثال شاذونادر ہی ملتی ہے، حضرت موسیٰ کے پیروکار ہونے کے دعویدار فرعون بنے ہوئے ہیں، اسرائیل فلسطینیوں کی نسل کشی کر رہا ہے، اسرائیلی فوج بچوں اور خواتین کو نشانہ بنا رہی ہے، ایسی بات نہیں کہ کوئی سمجھے کہ ان کے جذبات ہیں اور حکومت جذبات سے عاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجائے اس کے ہم ایک دوسرے کے گریبانوں پر ہاتھ ڈالیں اصل توجہ اس بات پر مرکوز رکھنی چاہئے کہ یہ جو اسرائیلی بھیڑیا نیتن یاہو ہے اس کے ہاتھ کیسے روکے جائیں  اور ہماری پہلی توجہ جنگ بندی اور انسانی کورویڈو کھولنے کے مطالبہ پر رہے، غیر ضروری بحث کسی صورت بھی ان معصوم شہدا کے حق میں نہیں ہو گی۔وزیراعظم نے کہا کہ غزہ ہمارے دل و دماغ اور روح کے قریب ہے،  فلسطینیوں پر مظالم کی وجہ سے اسرائیل کے خلاف دنیا میں نفرت میں اضافہ ہوا ہے، غزہ میں جنگ بندی کیلئے سنجیدہ کوششیں کی جانی چاہئیں، پاکستان فلسطینی بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہے۔ پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کی وطن واپسی سے متعلق سوال کے جواب میں نگران وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے ایک بھی افغان پناہ گزین کوواپس نہیں بھیجا، 50 لاکھ افغان پناہ گزین پاکستان میں مقیم رہے ہیں، ان میں سے 16 سے 17 لاکھ کی رجسٹریشن کی گئی، ان رجسٹرڈ افراد میں کسی ایک کو بھی واپس نہیں بھیجا گیا لیکن اس کے ساتھ ساتھ لاکھوں افراد کے پاس کوئی قانونی دستاویز نہیں تھی اور ہم انہیں تواتر کے ساتھ کہہ رہے تھے کہ وہ اپنے وطن واپس جائیں اور وہاں سے قانونی دستاویز پر پاکستان   آ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے وسائل اپنے شہریوں پر صرف کرنے ہیں،  غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں پر نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ذہنی صحت کے حوالے سے معاملات کو حل کرنے کی ضرورت ہے اور امید ہے کہ آزاد کشمیر حکومت اس حوالے سے اقدامات کرے گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں کسی سے جنگ لڑنے کا شو ق نہیں ہے لیکن اگر کوئی سمجھتا ہے کہ ہم کمزوری دکھائیں گے یا جھجھکیں گے تو وہ اپنی غلط فہمی دور کر لے ، وہ 30 جنگیں لڑیں گے تو ہم 300 جنگیں لڑنے کیلئے تیار ہیں،   پاکستان کی دفاعی صلاحیت کی وجہ سے کسی میں جرات نہیں کہ پاکستان کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھے۔جو نعمت ہمیں ریاست کی صورت میں ملی ہے اس کی قدر کرنی چاہئے، ۔ وزیراعظم نے کہا کہ وہ یہاں مشاورت کیلئے آئے ہیں اور  بات چیت کر رہے ہیں، ایک دوسرے کی حوصلہ افزائی بھی کریں گے اور ایک دوسرے سے سیکھیں گے بھی، کسی اقدام کی مذمت کرنا بھی ایک عمل ہوتا ہے ، سفارتی ،میڈیا سمیت کسی بھی محاذ کو آواز اٹھائے بغیر نہیں چھوڑنا چاہئے، سفارتی سطح پر  کسی بھی اقدام کی اگر مذمت کی جاتی ہے تو وہ بھی ایک سفارتی تقاضا ہوتا ہے اس کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے

0/Post a Comment/Comments