بھارتی سپریم کورٹ: مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا اقدام درست قرار


 نئی دہلی:  بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت بحالی کی درخواستیں مسترد کر دیں۔

بھارتی سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے، آرٹیکل 370 عارضی تھا، ہر فیصلہ قانونی دائرے میں نہیں آتا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا صدر کا حکم آئینی طور پر درست ہے، بھارتی صدر کے پاس اختیارات ہیں، آرٹیکل 370 مقبوضہ کشمیر کی شمولیت کو منجمد نہیں کرتا، جموں کشمیر اسمبلی کی تشکیل کا مقصد مستقل باڈی بنانا نہیں تھا۔

واضح رہے کہ بھارت نے 2019 میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کر دی تھی، مودی حکومت نے بھارتی آئین کی شق 370 کے خاتمے کا اعلان کیا تھا، بھارت نے اس دوران کشمیر میں ظلم و ستم کی نئی داستانیں رقم کیں۔

2019 سے قبل ریاست جموں و کشمیر کو نیم خودمختار حیثیت اور خصوصی اختیارات حاصل تھے، کشمیر کی سیاسی جماعتوں نے مودی حکومت کے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا، بھارتی سپریم کورٹ کے پانچ ججوں پر مشتمل بنچ نے ہنگامی سماعتوں کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

خیال رہے کہ بھارتی حکومت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت کا معاملہ 4 سال تک دانستہ طور پر لٹکائے رکھا، بھارت نے کشمیر میں ظلم و ستم کی نئی داستانیں رقم کیں، عوام نے بھارت کے ظالمانہ فیصلے کیخلاف بھرپور احتجاج کیا۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ کشمیریوں کو بھارتی عدالتوں سے انصاف کی توقع نہیں کی جا سکتی، مودی مکمل طور پر ہندوستان کے تمام اداروں بشمول عدلیہ، فوج، گورننس، میڈیا اور پارلیمنٹ کو کنٹرول کر چکا ہے۔

0/Post a Comment/Comments