کشمیر کبھی بھارت کا حصہ تھا،نہ ہے اور نہ کبھی ہوگا،بھارتی سپریم کورٹ کے 4 بونے بیٹھ کر کشمیریوں کی تحریک آزادی کو ختم نہیں کر سکتے،نگران وزیراعظم


 مظفر آباد۔:نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا ہے کہ کشمیر کبھی بھارت کا حصہ تھا،نہ ہے اور نہ کبھی ہوگا، بھارتی سپریم کورٹ کے 4 بونے بیٹھ کر کشمیریوں کی تحریک آزادی کو ختم نہیں کر سکتے، ہم ایسے فیصلوں اور ایسے قوانین کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں جس میں کشمیری عوام کاکوئی عمل دخل نہ ہو،کشمیر کی تحریک آزادی کےحوالے سے کشمیری قیادت کی مشاورت کے ساتھ لائحہ عمل بنائیں گے، کشمیریوں کا حق خودارادیت مسلمہ ہے۔

جمعہ کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتےہوئے انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے دورے کے دوران ان کی کشمیری اور حریت قیادت کے ساتھ ملاقاتیں ہوئیں۔ طلبا و کابینہ کے ساتھ بھی بات چیت ہوئی جس سے صورتحال کو بہتر طور پر سمجھنے اور جائزہ لینے کا موقع میسرآیا۔ میرادورہ انتہائی مثبت اورتعمیری رہا ہے۔ آزادی کی تحریک کو مضبوط بنانا سب سے اہم ہے۔

مقامی گورننس اور دیگر معاملات کی بھی یقیناًا پنی اہمیت ہے لیکن ہمارا اصل ہدف تکمیل پاکستان کے خواب اور کشمیری عوام کی خواہشات اور امنگوں کو عملی جامہ پہنانا ہے۔ اس حوالے سے دورے کے دوران اہم مشاورت ہوئی۔ ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کا کوئی بھی یک طرفہ فیصلہ خواہ وہ کسی بھی قانون اسمبلی یاعدالت کی طرف سے ہو کسی صورت قابل قبول نہیں اور نہ اس کی کوئی اہمیت ہے۔

ہم ایسے فیصلوں اور ایسے قوانین کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں جس میں کشمیری عوام کاکوئی عمل دخل نہ ہو۔ کشمیری اپنے ایک لاکھ شہداکی قربانیوں کو بھلا کر بھارتی ظلم و جبر کے آگے کبھی سرنہیں جھکائیں گے۔کشمیر کی حریت قیادت کو فی الفور رہاکیاجائے۔ کشمیر بھارت کا نہ کبھی حصہ تھانہ ہے اور نہ انشا اللہ ہو گا۔ بھارت اقوام متحدہ کے زیر انتظام ایک عبوری انتظام کی حد میں رہےاور اس حد کو عبور نہ کرے۔

بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ کشمیر کا حتمی فیصلہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ان قراردادوں کے تحت ہو گاجس میں کشمیری عوام کا حق خود ارادیت تسلیم کیاگیا ہے۔ کوئی اسمبلی اور عدالت کشمیریوں کے فیصلہ کر سکتی ہے نہ کرےگی۔ پاکستان کشمیر کا مقدمہ صف اول پر لڑےگا۔ ہم اپنی زمین اور اپنے لوگوں کی بھر پور وکالت کریں گے۔مقبوضہ جموں کشمیر کے عوام کو پاکستان کو اپنا پوٹینشل سیٹیزن سمجھتا ہے۔

یہ مستقبل کے پاکستانی شہری ہیں۔ ہم ان کے حقوق کی پامالیوں کی کسی صورت اجازت نہیں دیں گے۔ اس سلسلہ میں جو بھی ممکن ہو گا کریں گے۔انہون نے کہا کہ اسی سلسلہ میں کشمیری قیادت کے ساتھ ایک طویل مشاورتی اجلاس ہوا ہے جس میں مختلف تجاویز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیاکہ اسلام آبادمیں جلد نہ صرف دوبارہ اجلاس ہو گا بلکہ باقاعدہ رابطے ہوں گے جس میں تحریک کو جلا بخشنے اور آگے بڑھانے کے حوالے سے سوچ بچار کیا جائےگا۔ تمام طبقات اس بات چیت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گے۔

ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ وزارت خارجہ اور مشنز متحرک نظر آئیں گے۔ کشمیری قیادت کی معاونت اور رہنمائی بھی حاصل کریں گے۔ آزاد کشمیر کابینہ کے ساتھ معاشی پیکج اور مختلف منصوبوں کے حوالے سے بات چیت ہوئی ہے۔ اس حوالے سے مثبت پیشرفت ہے۔ وزیراعظم آزادکشمیر کے ہم قریبی رابطے میں ہیں۔ جو بھی تعاون ہماری طرف سے ضروری ہو گا فراہم کریں گے۔

ترقیاتی منصوبوں کےحوالے کابینہ کمیٹی تشکیل دےدی ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ کشمیریو ں کی اپنی تحریک کے ساتھ وابستگی مسلمہ ہے۔ کشمیر ی بہادر اور پرعزم ہیں ،تحریکوں میں اتار چڑھائو ہوتے رہتے ہیں۔ کشمیر کاذ بہت بڑا ہے۔ تحریک کے دوران مختلف مراحل آتے رہے ہیں لیکن تحریک کبھی ختم نہیں ہوئی، یہ تحریک ہمیشہ زندہ رہے گی۔

کشمیری عوام اپنے ایک لاکھ کے قریب شہدا ، خواتین کی عصمت دریوں ، 15ہزار سےجبری گمشدگیوں ، اجتماعتی قبروں اور ظلم و جبر کو بھول کر گھروں میں نہیں بیٹھ جائیں گے۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں اپناتسلط برقراررکھنےمیں ناکام ہوگا۔ دنیا کشمیر پر بھارت کے موقف کو تسلیم نہیں کرتی۔ بھارتی سپریم کورٹ کے 4 بونے بیٹھ کر قومی تحریک کو ختم نہیں کر سکتے، کشمیر کی تاریخ صدیوں پر محیط ہے۔

بھارت کے یک طرفہ اقدامات سے جدوجہد آزادی کو مزید تقویت ملے گی اور اگر کچھ لوگ خواب غفلت میں پڑےتھے وہ بھی جاگ جائیں گے۔ کشمیر نسل درنسل تحریک آزادی کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ بھارت کو یہ بات سمجھ میں نہیں آرہی ہے کہ اس تحریک کو کیسے ختم کیاجائے۔

پاکستان کے 24 کروڑ عوام کشمیریوں کے ساتھ ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ ہم نئی توانائی کے ساتھ مل کر کشمیر کے لئے کام کریں اور مل کر ایک متفقہ لائحہ عمل وضع کیاجائے۔

0/Post a Comment/Comments