نئے سال کے پہلے روز بھی غزہ پراسرائیلی حملے، مزید 100 فلسطینی شہید


 غزہ :  نئے سال کے آغاز کے ساتھ ہی اسرائیلی فوج نے وسطی اسرائیل میں سائرن بجانے کا اعلان کیا، اسرائیلی فوج نے نئے سال کے پہلے روز بھی فلسطینیوں پر بمباری کی جس کے نتیجے میں بچوں اور خواتین سمیت مزید 100 فلسطینی شہید ہوگئے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق غزہ شہر پر اسرائیلی فوج کی شدید بمباری سے اتوار (31 دسمبر) کی رات تقریباً 48 افراد شہید ہوئے ، جس کے بعد ایک اور حملے میں غزہ شہر کے مغرب میں الاقصیٰ یونیورسٹی میں پناہ گزین کیمپ میں 20 فلسطینی شہید ہوئے۔

ادھر القسام بریگیڈز نے تل ابیب اور اس کے مضافات کی جانب متعدد راکٹ داغنے کا اعلان کیا ہے ، القسام بریگیڈز نے ایک بیان میں کہا کہ انہوں  نے M90 راکٹ فائر کئے۔

علاوہ ازیں اسرائیلی فوج کی وحشیانہ بمباری سے مسجد اقصیٰ کے سابق امام شیخ یوسف بھی شہید ہوگئے۔

اسرائیلی فوج اور حماس کے ارکان کے درمیان زمینی لڑائی جاری ہے، جبکہ محصور غزہ کی پٹی کے مکینوں میں مایوسی پھیلی ہوئی ہے۔

دوسری جانب عرب میڈیا کاکہنا ہے کہ اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ فوج کی سات بریگیڈوں میں سے ایک چھاتہ بردار بریگیڈ نے جنوبی غزہ کی پٹی میں خان یونس میں جاری زمینی کارروائیوں میں شمولیت اختیار کر لی ہے ، فوج کے جاری  بیان میں کہا گیا ہے کہ چھاتہ بردار دستوں نے شمالی غزہ کی پٹی میں دو ماہ کی بڑی لڑائیوں کے بعد خان یونس کے علاقے میں اس ہفتے اپنا مشن شروع کیا۔

عرب میڈیا کے مطابق فوج کاکہنا ہے کہ اس بریگیڈ کے فوجیوں نے حماس اور باقی مسلح فلسطینی دھڑوں کے انفراسٹرکچر پر حملہ شروع کیا، جن میں مانیٹرنگ مقامات اور ہتھیاروں کے ڈپو شامل ہیں۔

دریں اثنا سعودی عرب کی طرف سے غزہ کے عوام کے لیے سعودی ہمدردی کا سلسلہ مسلسل جاری ہے ،  شاہ سلمان ریلیف سینٹر  نے مزید امدادی سامان کے ساتھ مزید 16 ٹرک 23 لاکھ سے زیادہ کی آبادی والے جنگ زدہ غزہ میں بھیج دیے ہیں۔

عرب میڈیا کے مطابق ٹرک میں خوراک، طبی سامان، اور خیمے وغیرہ شامل ہیں تاکہ نقل مکانی کرنے والوں کو پناہ گاہیں بنانے میں مدد دی جا سکے،  اس طرح سعودی عرب کی امداد لے کراب تک غزہ جانے والے والے ٹرکوں کی کل تعداد 172 ہو گئی ہے۔

واضح رہے کہ غزہ کی پٹی پر اسرائیلی بمباری سے اب تک 21800 سے زائد فلسطینی شہید اور 56ہزار  سے زائد زخمی ہو چکے ہیں  جبکہ بمباری سے بے گھر ہونے والوں کی تعداد تقریباً 23 لاکھ ہو چکی ہے۔

 

0/Post a Comment/Comments