ادبی و ثقافتی تنظیم زاویہ اور انحراف انٹر نیشنل کے زیرِ اہتمام تقریب پزیرائی

 

 اسلام آباد؎ادبی و ثقافتی تنظیم زاویہ اور انحراف انٹر نیشنل کے زیرِ اہتمام اکادمی ادبیات پاکستان کے تعاون سے ممتاز ناول نگار اور شاعر اختر رضا سلیمی کے تیسرے ناول "لواخ " کی تقریبِ پذیرائی اکادمی ادبیات پاکستان میں منعقد کی گئی۔تقریب کی صدارت افتخار عارف نے کی ، محمد اظہار الحق،اقبال آفاقی مہمانانِ خصوصی تھے۔ جب کہ اظہار خیال کرنے والوں میںحفیظ خان،ڈاکٹر نجیبہ عارف،احمد حسین مجاہد،قاسم یعقوب شامل تھے۔ میزبانی کے فرائض محبوب ظفر نے انجام دیے۔تقریب میں جڑواں شہروں کے علاوہ مضافات اور دیگر شہروںکے اہل قلم کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔صاحب صدر افتخار عارف نےگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اختر رضا سلیمی کا یہ ناول اردو فکشن میں بیش بہا اضافہ ہے۔ یہ ناول ہماری دھرتی کے اس علاقے کے با حمیت باسیوں کی کہانی پر مشتمل ہے جنھوں نے اپنی آزادی کو برقرار رکھنے کے لیے بہت قربانیاں دی ہیں مگر ہم پوری طرح ان سے واقف نہیں۔ سکھوں اور انگریزوں کے خلاف جدوجہد کی یہ کہانی خون سے لکھی گئی ہے جسے غیروں نے ہی نہیں اپنوں نے بھی نظر انداز کیا ہے۔ ہزارہ کے وسیب کا احاطہ کرتا ہوا یہ ناول ایسا ہے کہ اسے بار بار پڑھنا چاہیے کہ یہ ہمیں اپنی دھرتی ،اپنی ثقافت اور اپنی تہذیب سےروشناس کراتا ہے۔محمد اظہار الحق نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ شعر کے میدان میں اپنی انفرادیت کا جھنڈا گھاڑنے کے بعد اختر رضا سلیمی نے فکشن کی دنیا میں بھی اپنا الگ مقام بنایا ہے۔ انھوں نے اپنے خطے اپنے لینڈ سکیپ ، اپنے کلچر اور اپنی تاریخ کو ایک حوالہ بنا کر ناول لکھے ہیں اوراس کوشش میں کامیاب ٹھہرے ہیں۔اقبال آفاقی کا کہنا تھا کہ اختر رضا سلیمی کا ناول’’ لواخ‘‘ جدید ترین ادبی رجحانات کا نمائندہ ہے۔ اِس میں اُس شخص کی کہانی بیان کی گئی ہے جو تاریخ سے بھاگ کر ایک خانقاہ کےحجرے میں پناہ لے چکا ہے۔ اس نے اپنے ابائو اجداد کی وراثت کو’’ لواخ‘‘(الائو) کے حوالے کر دیا ہے۔حفیظ خان نے کہا کہ’’ لواخ‘‘ اردو ناولوں کی صف میں ایک اہم اضافہ ہے جس نے اکیسویں صدی کے اُردوفکشن کو اعتبار عطا کیا ہے۔ اختر رضاسلیمی نے اپنے ناولوں کے ذریعے قارئین کا ایک سنجیدہ حلقہ پیدا کر لیا ہے جس کے سبب ان کے ناول نہ صرف قبولیت کا درجہ حاصل کرتے ہیں بلکہ معاشرے میں توازن کا سبب بھی بنتے ہیں۔ڈاکٹر نجیبہ عارف نے کہا کہ اختر رضا سلیمی نے اپنے ناول ’’ لواخ‘‘ میں پاکستان کے ایک اہم علاقے کی تاریخ ہی رقم نہیں کی بلکہ نو آبادیاتی عہد کے اثرات کے نتیجے میں اس خطے کی تاریخی و جغفرافیائی اہمیت میں ہونے والی تبدیلیوں پر بھی بہت فنکارانہ انداز میں قلم اٹھایا ہے۔ کتاب کا اسلوب بھی اپنی جگہ پر منفرد اور قابل مطالعہ ہے۔احمد حسین مجاہد نے کہا کہ اختر رضا سلیمی نے تاریخی حقائق کی بنیاد پر اس ناول کے تانے بانے بنے ہیں لیکن کسی مقام پر بھی وہ اپنے تخلیقی طرفوں سے دستبردار نہیں ہوئے اور ناول کے جو مطالبات ہیں انہیں کما حقہ نبھایا ہے۔اس طرح یہ ناول ایک متوازی تاریخ کی خصوصیات کا حامل بھی ہے اور تاریخی مغالطوں کو رد بھی کرتا ہے۔قاسم یعقوب کا کہنا تھا کہ یہ ناول ان خطوں کی سماجی زندگی کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے جو بیرونی حملہ آوروں کے خطے میں داخل ہوتے وقت خاص طرز کی منصوبہ بندیوں سے گزرتی تھی۔  اختر رضا سلیمی نے گفتگو کرتے ہوئےکہا کہ میںآپ سب لوگوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ  نے لواخ کو اتنی توجہ اور محبت سے پڑھا اور اپنے گراں قدر خیالات کا اظہار کیا۔مجھے اس بات کا کوئی دعویٰ نہیں کہ میں بہت اچھا لکھنے والاہوں۔لیکن میں یہ ضرور کہوں گا کہ میں ان خوش نصیب لکھنے والوں میں سے ہوںجن کے ادبی رزق میں بہت برکت پڑی ۔مجھے کم لکھے پر بہت زیادہ محبت ، توجہ اور پذیرائی ملی۔میں اس پر وقار تقریب کا اہتمام کرنے پر زاویہ اور انحراف انٹرنیشنل کا خصوصی طور پر ممنون ہوں

0/Post a Comment/Comments