رونے دھونے سے کچھ نہیں ہوگا، الزامات کے بجائے آگے بڑھنا چاہیے: شہبازشریف


 کوئٹہ:سابق وزیراعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ ہم نے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا، ریاست بچ گئی سیاست بھی بچ جائے گی، رونے دھونے سے کچھ نہیں ہوگا ایک دوسرے پر الزامات کے بجائے آگے بڑھنا چاہیے۔

کوئٹہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر مسلم لیگ ن اور سابق وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ آج اپنے بھائی نواب اسلم رئیسانی اور حاجی لشکری رئیسانی کو ملنے آیا ہوں، ہمارا اس خاندان سے 50سال سے تعلق ہے، سیاست اپنی جگہ خاندانی تعلق کا ہمیشہ احترام کیا ، حاجی لشکری رئیسانی کو دعوت دینے آیا ہوں ن لیگ میں شامل ہوں۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے بہت سارے سیاسی اکابرین نے ن لیگ کو جوائن کیا ہے، ہمیں ملکر اس صوبے کو خوشحال بنانا ہے، ہمیں ملکر سیاسی،معاشی اور معاشرتی مسائل کو حل کرنا ہے، میاں نوازشریف آج صرف ایک سیاستدان نہیں ایک مدبر ہیں، نوازشریف کی تمام صوبوں کے ساتھ والہانہ محبت ہے، کل ہماری سیاسی گفتگو ہوئی،کل کے حوالے سے مطمئن ہوں، سیاست برائے سیاست کوئی قومی خدمت نہیں۔

صدر مسلم لیگ ن نے کہا کہ سمجھتا ہوں ان 75سالوں میں جو خرابی ہوئی، تمام سٹیک ہولڈرز کو بیٹھ کر مسائل کو حل کرنا ہوگا،16 ماہ کی مخلوط حکومت تھی، مشاورت سے فیصلے ہوتے تھے، 16ماہ کی حکومت میں مثبت فیصلے ہوئے، فیصلوں میں تاخیر بھی ہوئی، سیلاب میں ساتھیوں سمیت ہم گھر میں ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر نہیں بیٹھے ہوئے تھے، میں سیلاب میں جگہ جگہ گیا دن رات مارا مارا پھرتا رہا، ہم نے وفاق سے 100ارب روپے دکھی انسانیت کیلئے مہیا کیے، آپ یہ نہیں کہہ سکتے ہم آرام سے بیٹھے ہوئے تھے اور لوگ ڈوبے ہوئے تھے۔

شہبازشریف کاکہنا تھا کہ گزشتہ حکومت نے پاکستان کو دیوالیہ ہونے کی نہج پر پہنچا دیا تھا، ہم نے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا، یقیناً ہمارا سیاسی سرمایہ خرچ ہوا،تسلیم کرتا ہوں، ملک دیوالیہ ہوجاتا تو سری لنکا جیسے حالات بن جاتےاور بدترین صورتحال ہوتی، جہاں تک مہنگائی کی بات ہے وہ گزشتہ 4سالوں سے چلی آرہی تھی۔

ان کامزید کہنا تھا کہ کھاد کی قیمتوں میں اضافہ ہوا اور ہمیں گندم امپورٹ کرنا پڑی ، گزشتہ حکومت میں گندم کی پیدوار بھی کم ہوئی، چیلنجز تھے ،ہم انسان ہیں ،انسانوں سے خطا ہوتی ہے، ہم سے غلطیاں ہوئی ہوں گی اور ہوئیں بھی۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ بلاول بھٹو میرے چھوٹے بھائیوں کی طرح ہیں، میں نے بلاول بھٹو کے ساتھ 16ماہ کام کیا ، جن کو عوام منتخب کریں گے ،قوم انکو قبول کرے گی،عوام اگر ووٹ کے ذریعے نوازشریف کو منتخب کرتے ہیں تو یقین ہے انکو قبول کیا جائے گا۔

اس موقع پرنوابزادہ لشکری رئیسانی نے کہا کہ میاں شہبازشریف نے ہمیں دعوت دی یہ باعث اعزاز ہے، نوازشریف ملک کے بحرانوں کو بہتر جانتے ہیں، نوازشریف کے پاس بحرانوں کا حل ہوگا، ہم نے فیصلہ کیا اس سیاسی عمل کا حصہ بنیں گے، ہمارا فیصلہ بہت جلد ہوگا۔

قبل ازیں مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے کوئٹہ کے سراوان ہاؤس میں اسلم رئیسانی اور نوابزادہ لشکری رئیسانی سے ملاقات کی ۔

سابق سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق اور دیگر رہنما بھی ملاقات میں شریک تھے، ملاقات میں مجموعی سیاسی صورتِ حال اور انتخابات سے متعلق گفتگو ہوئی۔

شہبازشریف کی آمد پر نواب اسلم خان رئیسانی نے خوش آمدید کہا اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی کے لیے مل کر کام کرنا چاہتے ہیں، بلوچستان پاکستان کی ترقی کی بنیاد ہے، ملک اور قوم کو بحرانوں سے نکالنے کے لیے اتفاق، اتحاد اور اشتراک عمل ناگزیر ہے۔

دونوں رہنماؤں نے مستقبل میں سیاسی تعاون پر بھی تبادلہ خیال اور رابطے بحال رکھنے پر اتفاق کیا۔

0/Post a Comment/Comments