برطانیہ کا امریکی کتوں کی ایک خاص نسل پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ

 

برطانیہ کا امریکی کتوں کی ایک خاص نسل پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ

برطانیہ میں کتوں کے حملوں کی تعداد اضافے، بچوں کو نشانہ بنائے جانے اور کئی خاندانوں کو دہشت زدہ کردینے کے واقعات کے بعد برطانوی وزیر اعظم رشی سونک نے امریکی کتوں کی خریداری پر پابندی کا فیصلہ کرلیا۔

غیرملکی میڈیا کے مطابق برطانیہ کے وزیر اعظم رشی سونک نے کہا ہے کہ خطرناک حملوں کے بعد امریکی (XL بُلی) کتوں پر برطانیہ میں پابندی عائد کی جائے گی۔

اس نسل کے امریکی کتوں کی درآمد برطانوی معاشرے کے لیے خطرہ ہیں ان کی درآمد کو روک دیا جائے گا۔

برطانوی وزیراعظم نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ اس سال کے آخر تک خطرناک کتوں کی اس نسل پر پابندی عائد کر دی جائے گی۔

سوشل میڈیا پر اس حوالے سے ویڈیو بیان میں برطانیہ کے وزیراعظم رشی سونک نے کہا کہ یہ کتے 2021ء سے کم از کم 14 انسانی اموات کا باعث بنے اور یہ بچوں اور کمیونٹیز کے لیے خطرہ ہیں۔

برطانوی وزیراعظم نے اس نسل کے کتوں کے انسانوں پر حملوں کی ویڈیوز اور لوگوں میں پائے جانے والے خوف و ہراس کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نسل کے کتوں پر پابندی کے لیے فوری کام کرنے کی ہدایت دے دی ہے تاکہ لوگوں کو محفوظ رکھا جا سکے۔

برطانوی وزیراعظم نے کہا کہ اب یہ واضح ہو گیا ہے کہ مسئلہ چند بری تربیت یافتہ کتوں کا نہیں بلکہ ان کے رویے کا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مالکان کی ذمے داری ہے کہ وہ اپنے کتوں کو کنٹرول میں رکھیں، میں لوگوں کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ ہم ان حملوں کو روکنے اور عوام کی حفاظت کے لیے فوری طور پر کام کر رہے ہیں۔

خیال رہے برطانیہ فی الحال امریکن ایکس ایل نسل کو ایک مخصوص سٹرین کے طور پر تسلیم نہیں کرتا حالانکہ یہ امریکہ میں تسلیم کیا جاتا ہے، یہ کتے پہلی بار 2014 کے آس پاس برطانیہ میں نظر آنا شروع ہوئے، وبائی مرض کے دوران اس نسل کی مقبولیت میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

گزشتہ 5 برس میں کتوں کے حملوں میں 34 فیصد اضافہ ہوا ہے ، 2018 میں 16 ہزار 394 سے بڑھ کر گزشتہ سال یہ حملے 21 ہزار 918 ہوگئے تھے۔

0/Post a Comment/Comments

before post content

after post